بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر معظم کے نمائندے اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: میں ایران کی باعزت قوم، شہداء کے خاندانوں اور مسلط کردہ جنگ کے سپاہیوں ہفتۂ دفاع مقدس کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
رہبر معظم کے نمائندے اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے کہا:
آج ہم ایسے حالات سے گذر رہے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے اور ہمارے اسکولوں میں میناب کے شہداء کی جگہ خالی ہے؛ جنہوں نے اپنی مظلومیت سے دنیا کے سامنے ایران کا مظلوم چہرہ پیش کیا۔
دفاع مقدس ایران کی تاریخ کا ایک اہم واقعے کی تاریخ ہے۔ یہ پہلی جنگ ہے جس میں ہم نے اپنی زمین کا ایک بالشت بھر حصہ بھی نہیں کھویا۔ یہ پہلی جنگ تھی جس میں ایرانی قوم نے طاقت کے ساتھ اپنا پرچم بلند رکھا۔ ہم اسلامی انقلاب میں دفاعی پالیسی کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ ہم نے نئے اصول اور ضابطے بھی حاصل کئے اور سپاہ پاسداران کی تینوں قوتیں تشکیل پائیں۔ ہمارے پہلے میزائل اور ڈرون دفاع مقدس کے آخری سالوں میں تیار ہوئے۔ ہماری ڈرون، میزائل اور ہیلی کاپٹر سازی کی صنعتوں کی بنیادیں اسی دفاع مقدس میں رکھی گئیں۔
'ایران' ٹرمپ کا 'سب سے بڑا'، اور 'سب سے پہلا' مسئلہ بن گیا ہے
جہاں تک ٹرمپ کے دعوؤں اور ایران کے خلاف جنگ اور دفاع میں، ایرانی افواج کے کردار، کا تعلق ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ ہم امریکہ کے احمق صدر کو جواب دیں گے، ٹرمپ نے بے بنیاد باتیں کی ہیں۔ میرے خیال میں ٹرمپ کی تاریخی غلطیوں میں سے ایک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کی یہی تقریر تھی، کیونکہ اس نے ایک شکست خوردہ مجرم کے روپ میں، اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی۔
یہ پہلا امریکی صدر ہے جس کی تمام باتیں ایران کے گرد گھومتی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کا سب سے بڑا مسئلہ ایران بن گیا ہے۔ امریکی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ ایران بن گیا ہے۔ ایران کی عظمت کے بغیر یہ حاصل نہ ہوتا۔
ٹرمپ کی تقریر کا پورا متن ایک شکست خوردہ مجرم کا دفاع (Apologia) ہے
ٹرمپ کی تقریر کا پورا متن ایک شکست خوردہ مجرم کی طرف کا اپنا دفاع ہے؛ وہ جو صرف اپنا دفاع کرنا چاہتا ہے۔ وہ دنیا کی رائے عامہ کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔ امریکی ذرائع اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور یہ کہ امریکی ذرائع اپنے لاؤڈ اسپیکر بند کر دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس خرچہ مسلط کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ ایک رسوا کن شکست ہے۔
امریکی صدور کی مقبولیت میں سب سے زیادہ کمی ٹرمپ کے ریکارڈ میں درج ہے۔ یہ شخص اپنے ملک کے اندر ایسا ہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جرم کے دفاع کے لئے اس نے جنگ کو امن کا نام دیا، دہشت گردی کو سلامتی کا نام دیا۔ کون اسے مانے گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ